سوشل میڈیا پر ہوشیار رہیں: ہر سوشل میڈیا صارف ان تجربات کو ضرور پڑھے

Photo by Marvin Meyer on Unsplash

دنیا کی نصف سے زیادہ لوگ ڈیجیٹل شہری ہیں۔ اگر آپ میری اس تحریری کو سکرین پر پڑھ رہے ہیں تو آپ بھی اس اعدادو شمار میں شامل ہیں۔ مختصراََ تعریف کیے دیتا ہوں کہ

وہ شخص جو موبائل کو استعمال کر سکتا ہے، سوشل میڈیا تک اس کی رسائی ہے تو وہ ڈیجیٹل شہری ہے۔

جس طرح عام زندگی میں ہم ایک ذمہ دار شہری کا مظاہرہ کرتے ہیں بالکل اسی طرح ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر بھی ایک ذمہ دار شہری کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ چلیں دیکھتے ہیں کہ یہ ذمہ داریاں کیا ہیں۔

بطور ڈیجیٹل شہری ایک ذمہ دار شہری کا مظاہرہ کریں

آپ کی آن لائن سر گرمیاں کسی کے لئے مدد گار ہو سکتی ہیں اور یہ کسی کا دل بھی دُکھا سکتی ہیں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم بطور ڈیجیٹل شہری ایک ذمہ دار شہری کا مظاہرہ کریں۔ جتنا ممکن ہو لوگوں کی مدد کریں لیکن کچھ ایسا ہر گز نہ کریں کہ کسی اور کا دل دُکھے یا پھر کسی اور کا نقصان ہو۔

اپنے ذاتی زندگی کو خفیہ رکھیں

اپنے ذاتی زندگی کو اسی طرح ہی خفیہ رکھیں جس طرح عام زندگی میں کرتے ہیں۔ ایسی کوئی بھی چیز سوشل میڈیا پر شریک نہ کریں جس سے آپ کی ذاتی زندگی جڑی ہوئی ہو۔ آپ کے اکاونٹ پر پوسٹ ہونے والی چیزیں ہزاروں، لاکھوں لوگ دیکھتےہیں اور اگر وہ کچھ خفیہ ہوا تو وہ لمحوں میں وائرل ہوجاتی ہیں اور آپ کے پاس ان کو ختم کرنےکا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔

سوشل میڈیا مواد کو فلٹرکرنا سکھیں

سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں کوئی بھی شخص کچھ بھی پوسٹ کر سکتا ہے۔ ایک ڈیجیٹل شہری کی حثیت سے یہ اپ کی ذمہ داری ہے کہ اپ پوسٹ کو فلٹر کر سکیں تاکہ کوئی غلط معلومات آپ کو ذہنی کوفت نہ دیں۔

Photo by Jeremy Bezanger on Unsplash

لازم نہیں کہ جو کچھ لکھا ہواہو وہ سچ ہو

پہلے عوامی جگہ پر جانے کے لئے کچھ تیاری کی جاتی تھی اور ذہنی طور پر تیار ہو کر جایا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا بالکل ایک عوامی جگہ بن چکی ہے۔ اب صرف موبائل اُٹھانے کی دیر ہے اور آپ ایک پر ہجوم عوام میں آجاتے ہیں۔ اب یہاں پر ہر قسم کا انسان موجود ہے۔ یہ بالکل بھی لازم نہیں ہے کہ وہ جو کچھ بولے، لکھے وہ سچ ہو۔

اپنے روزانہ کے وقت پر نظررکھیں

اپنے موبائل کی ترتیبات (سیٹنگ) میں دیکھا کریں کہ آپ روزانہ کتنا وقت سکرین کو دیتے ہیں اور اس میں سے کتنا وقت سوشل میڈیا کو ملتا ہے۔ یہ انتہائی بہترین فنکشن ہے جس سے آپ اپنےآپ کی مانیٹرگ کر سکتےہو اور اپنے وقت کو مثبت مقام پر لگا سکتےہو۔

جس کا اشتراک کر رہےہو وہی آپ کی پہچان ہے

آپ جو کچھ سوشل میڈیا پر کرتے ہیں آپ کی وہی پہچان بن جانی ہے۔ یہ ایک مجازی دنیاہے۔ لوگ آپ کو ذاتی طور پر نہیں جانتے کہ اپ کیسے انسان ہیں۔ جوبھی سوشل میڈیا پر اپ لکھ رہے ہیں وہی آپ کی پہچان ہے۔ ایسا کچھ بھی نہ کریں جس کی وجہ سے “بد سے بدنام بُرا” کے مثال آپ پر لاگو ہو جائے۔

Photo by Timothy Hales Bennett on Unsplash

دوسروں کے خیالات کا احترام کریں

دوسروں کے خیالات کا احترام کرتے ہوئے اپنی مثبت شبیہ پیش کریں۔ یہ بالکل بھی ضروری نہیں ہے کہ جو کچھ آپ کو غلط لگ رہا ہو وہ غلط ہویا پھر سب کو غلط لگ رہا ہو۔آور فرض کریں کہ وہ اگر غلط ہے بھی تو یہ لازم نہیں کہ ایک مجازی دنیا میں آپ اپنی رائے دینے لگ جائیں اور نفرتیں کمانے لگ جائیں۔

تکلیف و جذبات میں سوشل میڈیاپر لکھنا مناسب نہیں

جب آپ تکلیف میں ہوں، پریشان ہوں یا پھر مایوس، اُس وقت سوشل میڈیا پر لکھنا مناسب نہیں ہے۔ پریشانی، مایوسی یا موجودہ جذبات کچھ لمحات کے لئے ہوتے ہیں۔ لیکن آپ ان لمحات کو کنٹرول نہ کر کے اپنی پوری زندگی وخاندان کو مصیبت میں ڈال سکتے ہیں۔

--

--

Dr Afzal Badshah focuses on academic skills, pedagogy (teaching skills) and life skills.

Love podcasts or audiobooks? Learn on the go with our new app.

Get the Medium app

A button that says 'Download on the App Store', and if clicked it will lead you to the iOS App store
A button that says 'Get it on, Google Play', and if clicked it will lead you to the Google Play store
Afzal Badshah, PhD

Afzal Badshah, PhD

Dr Afzal Badshah focuses on academic skills, pedagogy (teaching skills) and life skills.