کلر کہار

کلر کہار کو پر کشش بنانے میں اس کا پیار ا موسم، چشموں کے شفاف پانی کی جھیل، جھیل کے کنارے سر سبز باغات و پہاڑیاں ،تخت بابری اور موروں والی سرکار کے مزارات ہیں۔یہی دلکشی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ لاہور- اسلام آباد موٹروے کے بننے کے بعد یہاں جانا آسان ہوگیا ہے۔ کلر کہار انٹر چینچ پر خوبصورت جھیل و پہاڑیاں آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہاں آنے والوں میں زیادہ تر فطرت سے محبت کرنے والے اور مزارات پر حاضری دینے والوں کی ہوتی ہے۔ قدرت نے اس پٹی کو بہت خوبصورت بنایا ہے او اس قابل ہے کہ اس کودیکھا جائے۔ یہ جھیل پہاڑیوں کے دامن میں ہے اور خوبصورت سر سبز پہاڑیوں اور باغوں نے باہوں میں لیا ہوا ہے۔ کلر کہار کی جھیل کی خوبصورتی کا راز ہی شاید یہی ہے کہ یہ سر سبز پہاڑی سلسلہ سے گرا ہوا ہے اور اس کے ساتھ الو کاٹ کے سر سبز باغات ہیں۔ اسلام آباد — لاہور موٹر وے اس دائروی جھیل کو مماس کی طرح چھوتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔ نمک کے پہاڑی سلسلہ میں واقع یہ قدرتی جھیل چشموں کے شفاف پانی سے لبریز ہے ۔ اس کی گہرائی زیادہ نہیں ہے لیکن خوبصورت قدرتی مناظر اس کو نکھار بخشتے ہیں۔ کلر کہار خوبصورت موروں کے لئے بھی مشہور ہے اور شاید یہ پاکستان کی واحد جگہ ہے جہاں پر خوبصورت موروں کو آزاد دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں کا حسن سادہ اور فطری ہے جو اس قابل ہے کہ سیاحوں کواپنی محبت میں گرفتار کرے۔

موٹر وے انٹر چینج سے جھیل کا خوبصورت نظارہ

شیخ عبد القادر جیلانی (غوث الاعظم جیلانی) اسلامی دنیا کے بہت بڑے عالم گزرے ہیں۔ اس کے دو پوتے محمد اسحاق المعروف نور عالم اور محمد یعقوب المعروف فیض عالم یہا ں مدفن ہیں۔ تقریبا آٹھ سو سال سے یہاں پر اولیاء و صالحین اور عقیدت مند حاضری دیتے آرہے ہیں جن میں سلطان باہو کے چلہ کاٹنے کی ایک جگہ مخصوص ہے۔ بابا فرید گنج شکر کا چشمہ بھی اس کے قریب آج تک موجود ہے اس کے علاوہ سخی شہباز قلندر ،مخدوم جہانیاں جہاں گشت، حیدر علی شاہ اور زمان شاہ کی حاضری کے ثبوت بھی ملتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے بھی کلر کہار میں قیام کیا۔ یہاں قیام کے دوران میں فوج سے خطاب کرنے کے لیے اس نے ایک چٹان ترشوا کر تخت بنوایا تھا جو آج بھی “تخت بابری” کے نام سے موجود ہے۔یہاں بابر نے ایک باغ بھی لگوایا جو “باغ صفا” کے نام سے جانا جاتاہے۔ شہنشاہ بابر نے اپنی خود نوشت میں کلر کہار کو ایک دلکش اور قدرتی خوبصورتی سے متصف مقام کے طور پر بیان کیا ہے

چشموں کے شفاف پانی کی جھیل
الو کاٹ کے خوبصورت باغات
کلر کہار کے خوبصورت پہاڑ و باغات

کلر کہار کی جھیل و پہاڑیاں خوبصورت ہیں لیکن جو مجھے خوب جاذب النظر محسوس ہوئیں وہ کلر کہار سے چوا سیدن شاہ تک کا کوئی 26 کلومیڑکا تراشاہ ہوا علاقہ ہے۔ کلر کہار کے جھیل سے ہی دو پہاڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ متوازی چلنا شروع کرتی ہیں اور ٹرین کے دو پٹڑیوں کی طرح چلتے چلتے کٹاس پر ان کا سنگم ہوتا ہے۔ اس سنگم کو انسانوں نے کاٹ کرمرکزی شاہراہ گزاری ہے جو کہ مجھے اچھا نہیں لگا، کیونکہ اس نے صدیوں سے موجود کٹاس راج کے باقیات کو دو لخت کر دیا ہے۔بے دھیانی اور عدم دلچسپی کے باعث ہمارا یہ تاریخی ورثہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ان دونوں پہاڑیوں کی بیچ کی پٹی کی چوڑائی 3 کلومیڑ تک ہوگی۔ کلر کہار- چوا سیدان شاہ کا راستہ اس کے بیچو بیچ چلتا ہے۔یہاں پر قائم ہونے والی فیکٹریاں اور کریش مشینری جہاں خوبصورتی کو بہت بری طرح خراب کر رہی ہیں وہاں لوگوں کو روزگار بھی مل رہا ہے۔

چوا سیدان شاہ اور کلر کہار کے درمیان خوبصورت علاقہ

کلر کہار انٹر چینچ سے کوئی 26 کلو میٹر کے فاصلے پر ہندووٗں کا مقدس مقام کٹاس ہے جس کو” کٹاس راج “ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ چکوال سے قریباََ 25 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ لفظ کٹاس کے بارے میں لکھا جاتا ہے کہ یہ سنکسرت زبان کے لفظ “ کٹک شاہ” سے نکلا ہے
جس کا مطلب “ آنسووٗں کی لڑی” یا پھر “ آنسوٗوں بھری آنکھیں “ ہیں۔ کٹاس ازل سے ہی مذہبی طور پر جانا جا تا رہا ہے اور قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کی تاریخ 1500 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ ہندو روایات کے مطابق “مہا بھارت “ میں بھی ان مندرو کا ذکر ہے جو کہ ہزاروں سال پہلے کی تصنیف ہے۔ چھوتی صدی میں ایک چائینی اپنے سفر نامے میں کٹاس مندر کا ذکر کرتا ہے۔ اس کے مطابق یہاں پر ایک 200 فٹ کا اونچا “ٹوپہ”ہے اور اس کےارد گرد 10 چشمے ہیں۔ اس ٹوپے کے چھت پر تراشے ہوئے پھولوں اور پھلکاری کی طرز پر ناقابلِ یقین نقاشی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ساتویں صدی میں یہاں بدھ مت کی جگہ ہندو مذہب پھیلا اور انہوں نے بدھ مت کے “ٹوپے” کے ساتھ کئی مندر تعمیر کئے۔
برہمنوں کے روایت کے مطابق جب “شو “دیوتا کی بیوی “ستی” کی وفات ہوئی تو وہ اتنا رویا کی اس کے آنسوں سے ندی جاری ہوگئی۔ اس سے دو مقدس چشمے معرض وجود میں آگئے جو کہ ایک اجمیر شریف میں ہے اور دوسرا یہاں کٹاس میں۔ ایک اور قیاس بھی ہے کہ ہندو کے دیوتا “کرشنا” نے ان مندروں کی بنیاد رکھی۔

راج کٹاس کے مندر و ہویلی
راج کٹاس کی جھیل
کٹاس راج میں بدھ مت کا ٹوپہ
کٹاس راج میں بدھ مت کا ٹوپہ

چوا سیدن شاہ سے کوئی 19 کلو میٹر کے فاصلے پر “نندانہ” (تحصیل پنڈداد خان واقع ہے۔ یہ دسویں صدی کی تعمیر ہے اور یہاں بھی کچھ مندروں کے اثار ہیں۔ سلطان محمود غزنوی نے 11 صدی میں اسے اپنے زیر اثر کیا۔۔

البیرونی نے اسی درے سے زمین کا رداس معلوم کیا۔ رداس معلوم کرنے کے لئے اس نے پہاڑ کی اونچائی، سورج اور اُفق کو بطور پیرامیٹر استعمال کئے۔ آج سے کوئی 7، 8 سو سال پہلے زمین کی رداس کی صیحح صیحح پیمائش کرنا انتہائی حیرت انگیز ہے۔ البیرونی کے مطابق زمین کا رداس 6335 کلومیٹر ہے۔ ناسا کی آج کے پیمائش کے مطابق زمین کا رداس 6371 کلومیٹر ہے۔البیرونی سے پہلے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے مامون الرشید سے شروع ہوتی ہے جب اس نے ماہرین کو زمین کی پیمائش کا کام سونپا۔ ان ماہرین نے صحرا میں شمال اور جنوب کی طرف سفر کیا اور دوپہر کے وقت سورج کے زاوے کی بار بار پیمائش کر کے زمین کا محیط معلوم کیا جو کہ بعد میں البیرونی کے معلوم کئے گئے محیط سے کافی قریب تھا۔

کھیوڑا میں نمک کی کان کا دھانہ
برقی انجن سے چلنے والی ٹرین جو سیاحوں کو کان کے اندر لے کر جاتی ہے

چوا سیدن شاہ (کٹاس) سے کوئی 26 کلومیڑکے فاصلے پر مشہور کھیوڑا نمک کی کان ہے جو کہ تحصیل پنڈ دادن خان ، ضلع جہلم میں واقع ہے ۔ اسلام آباد سے کھیوڑا نمک کی کان کا فاصلہ کوئی 160 کلومیڑ ہے۔ چوا سیدان شاہ سے کھیوڑا تک کا سفر پہاڑو ں میں سے ہے اور کریش کےترسیلی گاڑیوں کی وجہ سے سڑک کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ یہ نمک کی قدیم ترین کان ہے ۔۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب سکندر اعظم 322 ق م میں اس علاقے میں آیا تو اس کے گھوڑے یہاں کے پتھر چاٹتے ہوئے دیکھے گئے۔ جب پتھر کو چکھا گیا گیا تو وہ نمکین نکلا اور یوں یہاں نمک کی دریافت ہوئی۔کھیوڑہ میں موجود نمک کی یہ کان جنوبی ایشیا میں قدیم ترین ہے اور دنیا میں خوردنی نمک کا دوسرا بڑا ذخیرہ ہے۔ کھیوڑا نمک کی کان کو بعض لوگ دمہ کے مرض میں مفید جانتے ہیں۔ چنانچہ یہاں ایک مطب بھی قائم کیا گیا ہے جس میں دمہ کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

اندرونی کان کا حسین منظر
اندرونی کان کا حسین منظر
کان کے اندر پانی کے تالاب جس کو برقی قمقموں سے خوبصورت بنایا گیا ہے
کان کے اندر پانی کا تالاب

1849 میں بر طانیہ نے اسے قبضہ میں لیا۔ جس کے خلاف مسلسل مزہمت کی گئی۔ 1972 میں ایک نیا نظام واضع کیا گیا جس سے کام کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا۔ کان کنوں کو روزانہ کان میں بند کر دیا جاتا اور اس وقت نکلنے دیا جاتا تھا جب وہ اپنی روزانہ کی مقررہ مقدار میں نمک کھود لیتے تھے۔ نمک کھودنے میں عورتیں اور بچے بھی مردوں کے ساتھ لگے رہتے تھے۔ لکھا جاتا ہے کہ اس دوران بہت سارے بچوں کی پیدائش کان کے اندر ہوئی۔ اس ظالمانہ نظام کے خلاف کان کو کئی دفعہ بند بھی ہونا پڑھا۔ اس دوران کان کے چیف انجنیئر نے دہلی سے فوج بھی بلائی جہنوں نے کان کے سامنے 12 افراد کو کھڑا کر کے گولی ماری۔

کان میں ٹوٹل 19 منزلیں بنائی گئی ہیں جن میں سے 11 منزلیں زیر زمین ہیں۔ نمک نکالتے وقت صرف 50 فی صد نمک نکالا جاتا ہے جبکہ باقی 50 فی صد بطور ستون اور دیوار کان میں رہنے دیا جاتا ہے۔ کان دہانے سے 750 میٹر دور تک پہاڑ کے اندر ہے اور اس کے تمام حصوں کی مجموعی لمبائی 40 کلومیٹر ہے ۔کان میں پانی کی نکاسی کے لیے پرنالوں کا ایک نظام بھی موجود ہے۔ پہاڑ سے رسنے والے پانی اور بارش کے پانی کے جمع ہونے سے نمکین پانی کے بعض تالاب بھی ہیں جن پر نمک ہی کے بنے ہوئے پل بنائے گئے ہیں۔ ان تالابوں کو مختلف رنگ کے روشنیوں سے منور کیا گیا ہے جن کو “شیش محل” کا نام دیا گیا ہے۔مدھم رنگی برنگی روشنیوں کا تبدیل ہونا سحر انگیز ہے۔ کان کے اندر نمک کے اینٹوں سے بنائی گئی مسجد اور مینار پاکستان کا نمونہ بھی ہے جس کو برقی قمقموں سے روشن کیا گیا ہے۔ یہاں پر بلوچستان کے ایک پہاڑ کا نمونہ بھی بنایا گیا ہے۔ کان سے رسنے والا پانی ایسے ٹھہر گیا ہے جیسے موتی پرودئے گئے ہوں۔شفاف مثل موتی نمک کے تاروں پر جب رنگین روشنی پڑھتی ہے تو کسی ہیرے کی طرح چمک جاتی ہیں۔ کان کے اندر سیاحوں کو لے کر جانے کے لئے ایک برقی ٹرین انجن بھی ہے۔ جو ڈبوں میں سوار سیاحوں کو کان کے اندر لے کر جاتا ہے۔

--

--

Dr Afzal Badshah focuses on academic skills, pedagogy (teaching skills) and life skills.

Love podcasts or audiobooks? Learn on the go with our new app.

Get the Medium app

A button that says 'Download on the App Store', and if clicked it will lead you to the iOS App store
A button that says 'Get it on, Google Play', and if clicked it will lead you to the Google Play store
Afzal Badshah, PhD

Afzal Badshah, PhD

Dr Afzal Badshah focuses on academic skills, pedagogy (teaching skills) and life skills.